جاری اقدامات

آزمائشی منصوبہ: 'اَنوکریتی'
منصوبہ ساز کمیشن نے پہلے ہی ہندوستانی زبانوں کا مرکزی ادارہ (سی آئی آئی ایل)، میسور کو 'اَنوکریتی' کے نام سے ایک اہم منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ ترجمہ ویب سائٹ بنام اَنوکریتی: ہندوستان کا ترجمہ کرنے والا کو تمام ہندوستانی زبانوں میں ترجمہ کی خدمت اور اطلاعات کے ایک سائٹ کی حیثیت سے بنایا گیا تھا۔ اس طرح کے ویب سائٹ کو بنانے کا تصور ہندوستانی زبانوں کے لئے وقف تین اداروں – ہندوستانی زبانوں کا مرکزی ادارہ (ایم ایچ آر ڈی)، میسور، ساہتیہ اکادمی اور نیشنل بُک ٹرسٹ، نئی دلّی کے ذریعے کیا گیا تھا۔

اس پروجیکٹ کے لئے دسویں منصوبہ کی مدت کے دوران کُل ۶۴۔۹۵ لاکھ روپئے متعین کئے گئے تھے۔ انوکریتی منصوبہ کے تحت، جیسا کہ طے کیا گیا تھا؛ مندرجہ ذیل امور انجام دئے گئے ہیں –

ترجمہ کی سہولت کا ویب سائٹ، www.anukriti.net برقرار کیا گیا ہے اور گذشتہ سالوں میں اسے لگاتار تازہ ترین اور دستاویزی بنایا گیا ہے۔ «  
'ٹرانسلیشن ٹوڈے' نام کے آن لائن ایک ترجمہ جریدہ کے تین سالوں کے شمارے لائے گئے ہیں۔ «  
ترجمہ معلوماتی خزانہ (ڈاٹا بیس) اور مترجموں کے لئے ایک قومی رجسٹر مسلسل تازہ ترین بنایا جاتا رہا ہے۔ «  
مشین کی مدد سے انگریزی-کناڈا ترجمہ پیکیج پر کچھ ابتدائی اساسی کام ہوئے ہیں۔ «  
اہم اشاعت گھروں سے حاصل کئے گئے ترجمہ کے اشاعتوں کی فہرستیں سائٹ پر دی جاتی رہی ہیں۔ «  
ترجمہ پر مختلف نصابوں کی تفصیلات جو ملک اور بیرونی ممالک میں دستیاب ہیں اس ویب سائٹ پر دستیاب کرائی گئی ہیں۔ «  
ترجمہ کے مختلف پیشہ ور ایجنسیوں سے کڑیاں قائم کی گئی ہیں۔ «  
آن لائن مترجموں کو سہولت فراہم کرنے کی خاطر ترجمے کے مختلف سافٹ ویر کی خریدداری کے لئے آن لائن کڑیاں فراہم کی گئی ہیں۔ «  
رجمہ کے مطالعات سے متعلق اصطلاحوں کی ایک لغت اور ایک کتابیات لگ بھگ اختتام تک پہنچنے کو ہے۔

«  
این سی ای آر ٹی کے ذریعے کئے گئے کام
این سی ای آر ٹی نے بارہویں کلاس تک کی اپنی تمام کتابوں کا ترجمہ اردو اور ہندی میں کیا ہے۔ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ آٹھویں جدول کے تمام ۲۲ زبانوں میں ترجمہ کئے جانے کی خاطر قومی/تعلیمی نصاب کا یہ ڈھانچہ تیار ہوا ہے۔ جدول میں درج تمام ہندوستانی زبانوں میں این ٹی ایم ان کتابوں کے ترجمے کے لئے حمایت فراہم کر سکی۔

ہندوستان میں ترجمے کی اشاعت
۱۹۵۴ میں قائم کیا گیا ساہتیہ اکادمی اور ۱۹۵۷ میں قائم کیا گیا نیشنل بُک ٹرسٹ، اپنے مشن کے ایک حصے کے طور پر ہندوستان میں زبانوں، علاقوں اور فرقوں کے مابین پُل بنانے کی خاطر ترجموں کی اشاعت کے لئے پہلی ذمے دار سرکاری شعبے تھیں۔

ساہتیہ اکادمی اپنے آغاز ہی سے علاقائی زبانوں اور انگریزی سے دوسرے علاقائی زبانوں میں اور دوسرے علاقائی زبانوں سے انگریزی میں بھی ادبی متون کے ترجموں کی اشاعت لگاتار کر رہی ہے۔ یہ ۲۴ زبانوں میں تقریباً ۷۰۰۰ تک کتابیں لا چکی ہیں۔ دراصل یہ ترجمے صرف اکادمی کے ذریعے تشخیص کئے گئے زبانوں سے ہی کئے گئے ہیں؛ لیکن ایک خاص قبائلی ادب منصوبہ کے ذریعے جو پہلے بَرودا میں تھی اور اب شیلانگ میں ہے، یہ قبائلی زبانوں اور بولیوں جیسے گڑھوالی، بھِلّی، کُوئی، گارو، گَمّیت، میزو، لیپچا، پہاڑی، مُنڈاری، گونڈی وغیرہ سے ترجمے لانا شروع کئے ہیں۔ اس کا اصل امداد بین اللسانی ترجمہ کے میدان میں ہے۔

نیشنل بُک ٹرسٹ ایک پرچہ "آدان پَردان" نکالتی ہے جو آٹھویں جدول کے مختلف زبانوں سے معاصر کلاسیکوں کا انتخاب کرتا ہے اور اس کا ترجمہ انگریزی اور دوسری ہندوستانی زبانوں میں کرتا ہے۔ مگر اس ٹرسٹ کی سرگرمی فقط ادب تک ہی محدود نہیں ہے؛ یہ مختلف شعبۂ حیات کے اہم شخصیتوں کی سوانح حیات کے شماروں کے علاوے شہری حقوق، صحت، ماحولیات، فنون، عمارت سازی، علم سیاست، تاریخ وغیرہ پر بھی علومی کتابیں اشاعت کرتی ہیں۔

اَسّی کے بعد ہندوستانی معاشیات کا کھلنا بین الاقوامی اشاعت گھروں کے دھیان کو کھینچا جو ہندوستان میں اشاعت کا کام شروع کر چکے ہیں، مگر اب بھی ہندوستان میں تعلیمی اشاعت انگریزی زبان کی اشاعت کا تقریباً ۸۰ فیصد حصّہ تشکیل کرتا ہے۔ یہ صنعت زیادہ سے زیادہ پیشہ ورانہ ہوتا جا رہا ہے، تدوینی معیار اعلی ہوتا جا رہا ہے اور بازار پر زیادہ دھیان مرکوز ہے۔ جبکہ پِیرسَن ایجوکیشن، رَینڈم ہاؤس، سیج، میکگَرو ہِل وغیرہ جیسے ناشر تعلیمی شعبہ پر کشادہ نظری سے توجہ دیتے ہیں اور اورِیئنٹ لونگمین (دِشا کا مجموعہ)، میکمِلن (جدید ناولوں کا انگریزی ترجمہ میں مجموعے)، پینگوئن اِنڈیا، آکسفورڈ یونیورسیٹی پریس، روپا و کمپنی، ہارپر-کولِنز وغیرہ جیسی اشاعت گھریں ترجموں کو بڑی اہمیت دینا شروع کر چکے ہیں۔ دوسرا امر واقعہ متعدد اشاعت گھروں کا وجود میں آنا ہے جو زیادہ تر 'کتھا' کی طرح ترجموں کے لئے وقف ہیں۔ اِستَری، زبان، رولی اور ویمین اَنلِمیٹیڈ وغیرہ جیسی چھوٹی چھوٹی اشاعت گھریں بھی ترجموں میں دلچسپی لے رہی ہیں۔

گر چہ انگریزی میں ادبی ترجمے کی حالت کسی حد تک بہتر ہے لیکن جب ہم (i) دوسری طرح کی کتابوں کا ترجمہ انگریزی میں، (ii) ہندوستانی زبانوں میں انگریزی اور دوسری ہندوستانی زبانوں کے ترجمے کی طرف دیکھتے ہیں تو اتنا مسرت بخش نظر نہیں آتا ہے۔ (iii) ہندوستانی زبانوں کے مابین بھی ترجمہ ناہموار ہے، مثال کے طور جبکہ ۲۶۰ بنگالی کتابیں ملیالم میں دستیاب ہیں مگر صرف ۱۲ کتابوں کے ترجمے ملیالم سے بنگالی میں ہوے ہیں۔ زبانوں کے اپنے آزاد یا بند فطرت کے علاوے اس نا ہمواری کی ایک وجہ کچھ زبانوں سے کچھ زبانوں میں ترجمہ کرنے والوں کی محض غیر موجودگی ہے۔ جبکہ زیادہ تر زبانوں کے ماہر موجود ہیں جو انگریزی سے کسی جدید ہندوستانی زبان اور ہندی میں ترجمہ کر سکتے ہیں، خاص کر ہندوستانی زبانوں کے مابین ترجمہ کرنے والے نہیں ہیں مثال کے طور پر تامل اور مراٹھی کے درمیان، ملیالم اور گجراتی کے درمیان وغیرہ وغیرہ۔

نصاب :
ترجمہ میں رسمی نصابیں فی الحال کچھ ہی دانشگاہوں میں پیش کی گئی ہیں۔ فی الحال مندرجہ ذیل نصابیں دستیاب ہیں:
انّاملائی یونیورسیٹی :  
علوم ترجمہ میں پی جی ڈپلوما (i)  
عملی لسانیات اور ترجمہ میں ایم اے۔ (ii)  
علوم ترجمہ میں ایم اے۔ (iii)  
(لسانیات میں پی ایچ ڈی (جس میں ترجمہ شامل ہو (iV)  
علوم ترجمہ میں ایم فیل۔ (V)  
آگرہ یونیورسیٹی کے ایم ادارہ: ترجمہ میں ڈپلوما کورس
ہماچل پردیس یونیورسیٹی: علوم ترجمہ میں ایم فیل۔ ۳.
مرحوم رَوی شنکر شُکلا یونیورسیٹی: ترجمہ میں سندی نصاب ۴۔
سُوامی رامانند تیرتھ مراٹھواڑا یونیورسیٹی: ترجمہ میں سندی نصاب ۵.
پُونا یونیورسیٹی: ترجمہ میں سندی اور ڈپلوما نصاب ۶۔
(حیدر آباد یونیورسیٹی (فاصلاتی تعلیم کا مرکز): علوم ترجمہ میں پی جی ڈپلوما (پی جی ڈی ٹی ایس ۷.
(حیدر آباد یونیورسیٹی (ہندی شعبہ: ۸.
ترجمہ میں ڈپلوما (i)  
پیشہ ورانہ ترجمہ میں ایڈوانس ڈپلوما (ii)  
علوم ترجمہ میں پی جی ڈپلوما (iii)  
حیدر آباد یونیورسیٹی (سی اے ایل ٹی ایس): علوم ترجمہ میں ایم فیل اور پی ایچ ڈی۔ ۹.
سی آئی ای ایف ایل (اب ٹی ای ایف ایل یو حیدر آباد) (علوم ترجمہ کا مرکز) (سی ٹی ایس): علوم ترجمہ میں پی جی ڈپلوما۔ ۱۰.
کیرل یونیورسیٹی: ترجمہ میں پی جی ڈگری۔ ۱۱.
مدورائی کامراج یونیورسیٹی: ترجمہ میں پی جی نصاب ۱۲.
تامل یونیورسیٹی، تَنجاور: ترجمہ میں ڈپلوما نصاب ۱۳.
(وِسوا بھارتی: عملی ہندی میں ایم اے (ترجمہ ۱۴.
مذکورہ بالا کے علاوے مختلف دانشگاہوں میں متعدد تقابلی ادب کے شعبے ہیں (مثال کے طور پر کلکتہ میں یادو پور یونیورسیٹی اور ویر نارماڑ جنوبی گجرات یونیورسیٹی، سورت) جو ترجمہ کے مطالعے کے میدان میں بھی نصاب پیش کرتے ہیں۔ یہ تینوں نجی ادارے ہیں جو مندرجہ ذیل قسم کا نصاب پیش کرتے ہیں: ترجمہ میں ڈپلوما، علوم ترجمہ کا ادارہ (رجسٹر شدہ)، بنگلور۔ اس طرح کے بہت سے نصاب ہیں جو اب دستیاب ہیں۔

(ہندوستانی زبانوں کا لسانی ڈاٹا کنسورشیم (ایل ڈی سی-آئی ایل
ہندوستانی زبانوں سے متعلق لسانیات کی کتابوں کے مجموعے اور لسانی ٹیکنالوجی کے میدان میں محققوں اور فروغ دینے والوں کو مدد پہنچانے کے لئے ایل ڈی سی-آئی ایل قائم کیا گیا تھا۔ لسانی ٹیکنالوجی کے میدان میں تحقیق اور فروغ کے معاملے میں زبان کا ڈاٹا سب سے اہم جزء ہے۔ ایل ڈی سی-آئی ایل ہندی اور دوسری زبانوں میں مشین سے پڑھے جانے والے زبان کا ڈاٹا فروغ دینے کی ضروریات پر توجہ دے رہا ہے۔ لسانی ڈاٹا کے حجم کی جمع آوری، ترکیب اور شرح سے جڑے مسائل، متعدد ڈِسیپِلین جیسے لسانیات، شماریات، انجینیرنگ وغیرہ کو شامل کرنا لازمی بنا دیتا ہے۔

ن سب کے علاوے ہندوستانی زبانوں کا لسانی ڈیتا کنسورشیم
متن، بولی اور لغوی کارپورا کی شکل میں تمام ہندوستانی زبانوں میں لسانی وسائل کا ایک مخزن تیار کرےگا۔ «  
مختلف تنظیموں کے ذریعے اس طرح کے معلوماتی خزانے کی تخلیق کی سہولیات فراہم کرےگا۔ «  
مختلف تحقیقی اور ترقیاتی سرگرمیوں کی خاطر لسانی کارپورا کے ڈاٹا کی جمع آوری اور ذخیرہ کاری کے لئے معیاریں برقرار کرےگا۔ «  
ڈاٹا کی جمع آوری اور انتظام کے لئے آلۂکار کے فروغ اور شریک کرنے میں مدد دےگا۔ «  
تکنیکی اور طریق کار سے متعلق مسائل پر سمینار، کارگاہ وغیرہ کے ذریعے تربیت فراہم کرےگا۔ «  
ایل ڈی سی-آئی ایل کا ویب سائٹ بنائےگا اور دیکھ بھال کرےگا جو کہ ایل ڈی سی-آئی ایل کے وسائل تک کی رسائی کے لئے اصلی راستہ ہوگا۔ «  
عوامی استعمال کے لئے مناسب لسانی ٹیکنالوجی کے تیار کرنے میں خاکہ بنائےگا یا مدد فراہم کرےگا۔ «  
اکادمی اداروں، انفرادی محقق اور عام لوگوں کے درمیان لازمی کڑیاں فراہم کرےگا۔ «  
 
یہ تمام سرگرمیاں جو مشینی ترجمہ میں کام کو آسان کرےگا قومی ترجمہ مشن کے لئے مستقیماً مفید ہوں گے۔

سی-ڈیک اور ٹی ڈی آئی ایل کے ذریعے کئے گئے کام
اِسکیپٹِکس (متشکک) جو مشینی ترجمہ نظام کے استعدادِ کار کا اندیشہ کرتا ہے، جان کر بڑی خوشی ہوگی کہ دنیا بھر میں متعدد مشینی ترجمہ نظام استعمال میں ہیں۔ مثال کے طور پر مشہور و معروف "سِسٹران" (اَلٹا وِسٹا کھوج انجن کے ذریعے استعمال کیا گیا) اور میٹیو (کناڈائی علم موسمیات مرکز میں استعمال کیا گیا، جو ۱۹۷۷ سے موسم کے خبروں میں ۴۵۰۰۰ سے زیادہ لفظوں کا ترجمہ کرتا ہے) ہیں۔ ہندوستان میں مشینی ترجمہ تحریک کا آغاز سی-ڈیک کے ذریعے ہوا تھا جب وہ این ایل پی (فطری زبان کا طرز عمل) پر کام کرنا شروع کیا تھا اور ٹَیگ پر مبنی ایک تجزیہ کنندہ کو فروغ دیا تھا جو ہندی سنسکریت، گجراتی، انگریزی اور جرمن زبان کے جملوں کا تجزیہ کر سکتا تھا۔ جب یہ ٹیکنالوجی کو فروغ دے رہا تھا تو کمپنی اس کے عملی انجام کو بھی دیکھ رہا تھا اور اس کے بارے میں مختلف ایجنسیوں کو مشورے دئے۔ مشینی ترجمہ کے زبردست خلقی استعداد کو محسوس کرتے ہوئے حکومت ہند کے سرکاری زبان کے شعبے نے اس طرح کے منصوبوں کو مستعیدی سے فنڈ دینا شروع کیا۔ ترسیل اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کے وزارت نے مخصوص میدان کے ترجمہ نظام کی ترقی کے لئے مندرجہ ذیل میدانوں کی شناخت کی ہے:

حکومت کے انتظامی دستورالعمل اور سائز و وضع؛ «  
پارلیمانی سوالات و جوابات۔ دارو سازی سے متعلق اطلاع۔ «  
قانونی اصطلاحات اور فیصلے «  

دوسروں کے درمیان مشینی ترجمہ کو شامل کر کے ہندوستانی زبانوں میں اطلاعات کے عمل درآمد کے میدان میں تحقیق اور ترقیاتی کوششوں کی حمایت کرنے اور فنڈ دینے کے لئے ۱۹۹۰ – ۹۱ میں وزارت نے "ہندوستانی زبانوں کے فروغ کے لئے ٹیکنالوجی" منصوبہ کا بھی آغاز کیا۔ بہرحال ۲۲ مختلف دفتری زبانوں سے ترجمہ ایک مشکل ترین امر ہے۔ جیسا کہ انگریزی اور ہندی، زبانوں کا ایک بہت ہی اہم جفت ہے اور سرکاری دفتروں میں بڑی تعداد میں مراسلہ کی تشکیل کرتا ہے، اس جفت کو مشینی ترجمہ کے لئے بہت اہم میدان کی حیثیت سے شناخت کیا گیا ہے۔

اسی بنا پر تحقیق کے دو مخصوص میدان: ہندوستانی زبانوں کے درمیان ترجمہ کے لئے مشینی ترجمہ نظام اور ہندی اور انگریزی کے درمیان ترجمہ کے لئے مشینی ترجمہ نظام کی شناخت کی گئی ہے۔ فی الحال سی-ڈیک پونے، این سی ایس ٹی، (یا جو اب سی-ڈیک ممبئی کے نام سے جانے جاتے ہیں)، آئی آئی ٹی حیدر آباد اور آئی آئی ٹی کانپور کے نام سے ملک میں تین ادارے اس زبردست ٹیکنالوجی کا استعمال کر کے عملی پہلوؤں کو فروغ دینے میں رہبری حاصل کر چکے ہیں۔

سی-ڈیک کا الیکٹرونیک شعبہ (ڈی او ای)، علوم پر مبنی کمپیوٹری نظام منصوبہ کے تحت وِیاکرتا بنایا جو انگریزی، ہندی، گجراتی اور سنسکریت کے جملوں کا تجزیہ کر سکتا ہے۔ مَنتَرا (انگریزی سے ہندی میں دفتری زبان کے جملوں کے ترجمے کے لئے ایک مشین کی مدد سے ترجمہ آلۂکار) کو بنانے کے لئے اس نے اسی تجزیہ کنندہ کا استعمال کیا۔ اسے دفتری زبانوں کا شعبہ کو دکھایا گیا جس نے "انتظامی مقاصد کے لئے انگریزی سے ہندی میں کمپیوٹر کی مدد سے ترجمہ نظام" نام کے منصوبے کو مالی مدد عطا کی۔ اس منصوبہ کا مقصد کارکنان کے نظم و نسق کے لئے کمپیوٹر کی مدد سے ایک ترجمہ نظام کا نقشہ بنانا، فروغ دینا اور نافذ کرنا تھا۔ یہ نظام اب خطوط اور اطلاع نامے جیسے بحالی نامے اور تبادلہ نامے کو ترجمہ کرنے کے قابل ہے اور معیاری لفظی عمل درآمد اور ڈی ٹی پی پیکیجوں سے اِنپُٹ لینے کے قابل بھی ہیں۔

مذکورہ بالا مشخص کئے گئے میدان میں انگریزی سے ہندی ترجمہ کے کامیاب انجام کے بعد سی-ڈیک اب اسے دوسرے میدانوں میں پھیلانے کی سوچ رہا ہے اور کثیرالسانی ترجمے کے لئے ترقی یافتہ تکنیکیں استعمال کر رہا ہے۔ یہ صلاحیت اسے کسی بھی جفت زبان کے درمیان مشینی ترجمے کو کامیاب بنانے کے قابل بنائےگا۔

مشینی ترجمہ کے میدان میں مشغول دوسری تنظیم ممبئی میں قائم این سی ایس ٹی ہے جس کا نام اب سی-ڈیک ممبئی ہے۔ ہندوستان میں این سی ایس ٹی مشینی ترجمہ پر کام کرنے والوں میں پہلا ادارہ تھا۔ اَسّی کی دہائی کے آخر میں رسم الخط جیسی ایک طرز عمل کا استعمال کر کے پی ٹی آئی کے مخصوص قسم کے خبریہ کہانیوں کا ترجمہ کرنے کے لئے "اِسکرین ٹاک" کا ایک ابتدائی نمونہ ہم لوگوں نے ایجاد کیا۔ اسی زمانے میں اس نے "ماترا" نام کا ایک دوسرا سافٹ ویر تیار کیا جو ہندی سے شروع کرتے ہوئے ہندوستانی زبانوں اور انگریزی کے درمیان ترجمہ کے عام مقصد کی تکمیل کا ایک ڈھانچہ تھا۔ ماترا کو دو طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ خودکار طور میں یہ نظام بہت عمدہ ترجمہ فراہم کرتا ہے جسے بعد میں استعمال کرنے والوں کے ذریعے تدوین کیا جا سکتا ہے۔ دستی طور میں استعمال کرنے والا درک کنندہ جی یو آئی کا استعمال کرتے ہوئے نظام کو صحیح ترجمے کی جانب رہنمائی کرتا ہے۔

اس حیرت انگیز ٹیکنالوجی کو تیار کرنے میں آئی آئی ٹی ممبئی اور آئی آئی ٹی کانپور نے 'اَنوسارَکا'، اَنگلابھارتی'، 'اَنوبھارتی' وغیرہ جیسے منصوبوں کے سہارے رہنمائی حاصل کی۔ حال میں آئی آئی ٹی ممبئی میں زبان کے ہمہ گیر نیٹورکنگ کے سہارے اس مسئلے کے ایک بہت جدید طرز عمل کا تعاقب کیا جا رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 'اَنگلابھارتی' مشینی ترجمہ کے میدان میں ایک انقلابی نظام ہے۔ عوامی صحت مہم کے مخصوص میدان میں انگریزی سے ہندی کے درمیان ترجمہ کرنے کے لئے یہ نظام مشین کی مدد سے ترجمے کا نظام ہے۔

جبکہ تمام حالیہ منصوبے اپنی تمام توانائی انگریزی سے ہندی میں مشینی ترجمہ پر مرکوز کر رکھا ہے مگر دوسری زبانوں تک پھیلانا ایک چنوتی ہے۔ 'اَنوسارَکا' منصوبہ جو آئی آئی ٹی کانپور میں شروع ہوا اور بعد میں آئی آئی ٹی حیدرآباد اور سی اے ایل ٹی ایس، حیدرآباد یونیورسیٹی کے ذریعے مشترکہ طور پر تیار کیا گیا تھا، جو اختراعی تھا اور ایک ہندوستانی زبان سے دوسری ہندوستانی زبان میں ترجمہ کے صریحی مقصد کے ساتھ آغاز کیا گیا تھا۔ 'اَنوسارَکا' ایک ایسا سافٹ ویر ہے جو ایک ہندوستانی زبان سے دوسری ہندوستانی زبان میں متن کو تبدیل کرنے کے قابل ہے۔ جو نتیجہ یہ فراہم کرتا ہے اسے پڑھنے والا سمجھ تو سکتا ہے لیکن ہوبہو قواعد کے مطابق نہیں ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ایک بنگلہ سے ہندی اَنوسارَکا کسی بنگالی متن کو درک کر سکتا ہے اور ہندی میں نتیجہ فراہم کر سکتا ہے جسے استعمال کرنے والا سمجھ سکتا ہے لیکن قواعد کے مطابق با لکل درست نہیں ہو سکتا ہے۔ اسی طرح کسی زبان کے سائٹ کا ایسا دیکھنے والا جسے وہ نہیں جانتا ہے، اَنوسارَکا کو چلا سکتا ہے اور متن کو پڑھ سکتا ہے۔ اَنوسارَکا تیلگو، کناڈا، بنگالی، مراٹھی اور پنجابی سے ہندی میں بنایا گیا ہے۔ اس طرح کے تیار کئے گئے نظام کو آزاد ماخذ سافٹ ویر کی حیثیت سے دستیاب کرایا جائےگا۔ آئی آئی ٹی حیداآباد 'شکتی' نام کا ایک اور دوسرا ترجمہ کو مدد کرنے والا نظام تیار کر چکا ہے۔

دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ اب تک محققوں اور دانشگاہ/آئی آئی ٹی دونوں کے ذریعے بہت سے میدان شامل کرنے باقی ہیں اور سافٹ ویر صنعت اس میدان میں متانت سے مشغول ہیں جن کو این ٹی ایم کے حمایت کی ضرورت ہے۔